Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Daam Main Siyad Aagiya - Dr. Memon Abdul Majid Sindhi AUTHOR : MASOOD MUFTI

SKU: 13094276254

4.3
USD175.00 USD207.00

Pay in 4 interest-free payments of $43.75 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 31 - Aug 5

Description

AUTHOR : MASOOD MUFTI

جوکالیاں ۔ ٹلہ جوگیاں۔ سٹوپوں کا شہر سوات، پنجاب کا واٹرلُو چیلیانوالہ اور جوکالیاں

اس مصنف کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ اردو میں مابعد نوآبادیاتی تنقید کو باقاعدہ قائم کرنے میں (اس کی بکھری ،منتشر مثالیں ،بلاشبہ پہلے موجود تھیں)،نوآبادیاتی اور نئے نوآبادیاتی عہدکے اردو ادب میں سماجانےو الی مغربی استعماری روح ، اس کی مخفی وبین اور متنوع صورتوں کو خالص علمی ومنضبط انداز میںسامنے لانے کی روش کا آغاز کرنے میں، ان کتابوں کا کچھ نہ کچھ حصہ ہے۔ اس حصے کی نوعیت وافادیت کاجائزہ لینا، اس مصنف کا نہیں ، اس مصنف کے قارئین اور نقادوں کا کام ہے۔ اس مصنف کے لیے یہ بھی اطمینان کی بات ہے کہ اس کتاب کو قارئین ونقادوں کی خاموشی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ نہ صرف اسے دو قومی اعزازات (باباے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ اور اوکسفرڈ لٹریری فیسٹول ایوارڈ)ملے،بلکہ پاکستان وہندوستان کے سرکردہ نقادوں نے اس پرلکھا۔ اختلاف بھی کیا گیااور اتفاق بھی۔اس کتاب کے بعض قارئین کو یہ اختلاف رہا ہے کہ اس میں اردو ادب کے چند مشاہیر کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اردوادب کی تاریخ نویسی کا غالب رجحان ماضی کی ان ادبی شخصیات کی غیر مشروط مدح سرائی سے عبارت رہاہے،جن کا کچھ بھی حصہ یا کردار قومی شناخت کے قیام میں رہا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے غیر مشروط مدح کی بجائے، سچائی کو غیر مشروط طور پر سمجھنے اور پوری شائستگی اور دلیل و شہادت کے ساتھ،اسے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔اس ضمن میں رائج و مقبول آرا کو اپنے نتائج کے استباط کی بنیاد نہیں بنایا۔ مثلاً پہلے باب میں مسلمانوں اور انگریزوں کے سیاسی و ثقافتی کردار کو معرض بحث میں لاتے ہوئے، کسی مقبول رائے کو مدنظر رکھنے کی بجائے معقولیت کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ آپ اس مصنف کے معقولیت کے تصور سے اختلاف کرسکتے ہیں۔اس کے طریق کار اور نتائج سے بھی اختلاف کرسکتے ہیں،مگر اس سے نہیں کہ پوری کتاب میں کسی رائے کی بنیاد مصنف کا اپنایا دوسروں سے اخذ کردہ تاثر نہیں ہے۔ ایک موضوع سے متعلق زیادہ سے زیادہ اور بنیادی مآخذ کو پیش نظر رکھ کر نتائج کا استنباط کیا گیا ہے۔(بلاشبہ ان نتائج کے استنباط میں ایک زاویہء نظر ضرور کارفرما رہا ہےجسے آپ آزادانہ تفہیم کا نام دے سکتے ہیں)۔ یہی طریقہ حالی، شبلی، نذیر احمد ،سرسید، اکبر ،منٹو، میراجی، قرۃالعین حیدر اور انتظار حسین کے ضمن میں اختیار کیا گیا ہے۔ ان سب کے مطالعے میں اس دھاگے کو گرفت میں لینے کی سعی کی گئی ہے کہ اردو ادب نے کس طور،کن اسباب اور کن واضح مقاصد کے تحت، کلاسیکی شعریات سے الگ اور نیا رخ اختیار کیا اور اس میں استعماریت، قومیت، جدیدیت کا کیا کردار رہا ہے۔نیز یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہاںہمارے مشاہیر نے استعماری آئیڈیالوجی کی کُھلی یا بین السطور حمایت کی اور کہاں اس سے فاصلہ اختیار کیا اور کہاں اس کے خلاف کھلے لفظوں میں یا بالواسطہ مزاحمت کی۔جدید اردو ادب کی تشکیل میں حصہ لینے والے متون کے افقی اور عمودی مطالعات کیے گئے ہیں۔اس زمانے کی تاریخی صورت حال ، سماجی و ثقافتی حالات کے ساتھ ساتھ ادبی رجحانات کا نقشہ پیش کیا گیا ہےمتون کی تمام ممکنہ معنوی سطحوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ترکی میں خلافت عثمانیہ کے آخری دور اور کمال اتاترک کے جمہوری انقلاب کے دوران اور اس کے بعد فاطمہ علی خانم، نازیہ محی الدین اور خالدہ ادیب خانم نے عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کے باب رقم کیے۔ ترکی میں 1926 میں کثرت ِازدواج پر پابندی لگائی گئی اور 1930 میں عورتوں کو ووٹ کا حق ملا، جو اس وقت تک کئی اہم یورپی ممالک میںعورتوں کو حاصل نہ تھا۔

EssaysISBN: 9693534018Language: UrduYear of Publication: 2022Number of Pages: 288

Daam Main Siyad Aagiya - Dr. Memon Abdul Majid Sindhi AUTHOR : MASOOD MUFTIWriter: Ahmed Yar Khan Category: Short Stories Pages: 194

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products